← Sab articles · Read in English
نکاح نامے کا وہ خانہ
جو اکثر خالی چھوڑ دیا جاتا ہے — طلاقِ تفویض۔
60-second video · YouTube · Facebook
نکاح نامے میں ایک خانہ ہے جو اکثر خالی چھوڑ دیا جاتا ہے، اور بعد میں اسی کی سب سے زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ طلاقِ تفویض۔
۱۔ طلاق کا حق تفویض کرنا
شوہر نکاح کے وقت طلاق کا حق بیوی کو تفویض کر سکتا ہے۔ یہ قانون میں جائز ہے۔
۲۔ نکاح نامے کا خانہ نمبر اٹھارہ
اس کے لیے نکاح نامے کا خانہ نمبر اٹھارہ مخصوص ہے، جس میں یہ بھی لکھا جا سکتا ہے کہ کن شرائط پر۔
یہ خانہ نمبر اٹھارہ ہے — اور اس میں شرائط بھی لکھی جا سکتی ہیں۔
۳۔ بیوی خود طلاق دے سکتی ہے
اگر یہ حق تفویض ہو چکا ہو تو بیوی خود طلاق دے سکتی ہے — اسے خلع کے مقدمے کی ضرورت نہیں رہتی۔
حق تفویض ہو تو بیوی کو خلع کے مقدمے کی ضرورت نہیں رہتی۔
۴۔ طریقہ وہی ہے
اس کے بعد بھی یونین کونسل کو نوٹس اور نوے دن والا وہی طریقہ لاگو ہوتا ہے۔ نکاح کے وقت یہ خانہ ضرور پڑھیں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں
طلاق کا حق اصلاً شوہر کے پاس ہے، مگر فقہاء متفق ہیں کہ شوہر یہ حق بیوی کو سونپ (تفویض) سکتا ہے؛ اس کی بنیاد ان آیات پر رکھی جاتی ہے جن میں نبی کریم ﷺ کو ازواجِ مطہرات کو اختیار دینے کا حکم ہوا (الاحزاب 33:28–29)۔
نکاح نامے کا کالم 18 اسی تفویض کو تحریر میں لانے کا قانونی موقع ہے، اور قرآن معاملات لکھ لینے کی تاکید کرتا ہے (البقرہ 2:282)۔
فقہی تفصیلات میں مکاتبِ فکر کا فرق ہو سکتا ہے — عمل سے پہلے مستند عالم اور وکیل سے رجوع کریں۔
اس معاملے میں وکیل چاہیے؟
RuleBook app mein case post karein; aap ke shehar ke verified vakeel offer ke sath jawab dete hain. Sab kuch likhit.
talaq e tafweez · nikah nama column 18 · talaq ka haq biwi ko · talaq e tafweez in urdu · nikah nama padhna · rulebook · pakistan law in urdu
RULE